صحیح بخاری حدیث ۵۹۳۹ - رسول صلى الله عليه وسلم کی ممانعت کو قبول کرنا
خلقت بدلنے والے اعمال اور رسول صلى الله عليه وسلم کی ممانعت
صحیح بخاری : ۵۹۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۳۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : " لَعَنَ عَبْدُ اللَّهِ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ " ، فَقَالَتْ أُمُّ يَعْقُوبَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ وَفِي كِتَابِ اللَّهِ " قَالَتْ : وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُهُ ، قَالَ : " وَاللَّهِ لَئِنْ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 " .
علقمہ روایت:
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خوبصورتی کے لیے گودنے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، ان سب پر لعنت بھیجی تو ام یعقوب نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا آخر میں کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور کتاب اللہ میں اس پر لعنت موجود ہے۔ام یعقوب نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے پورا قرآن مجید پڑھ ڈالا اور کہیں بھی ایسی کوئی آیت مجھے نہیں ملی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے پڑھا ہوتا تو تمہیں ضرور مل جاتا کیا تم کو یہ آیت معلوم نہیں «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» یعنی ”اور جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے بھی تمہیں منع کریں اس سے رک جاؤ۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۹۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خوبصورتی کے لیے گودنے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں، اور سامنے کے دانتوں میں فاصلہ پیدا کرنے والیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے ان کاموں کو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرنے والی باتوں میں شمار کیا۔ جب ام یعقوب نے سوال کیا کہ قرآن میں یہ کہاں ہے، تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت “وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا” پیش کی، یعنی رسول جو دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔ اس حدیث میں دو باتیں ساتھ آتی ہیں: خاص زینتی اعمال کی ممانعت، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ممانعت کو ماننے کی قرآنی بنیاد۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خوبصورتی کے لیے گودنا، چہرے کے بال اکھاڑنا اور دانت بدلنا روایت میں مذکور ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ممانعت کو قبول کرنا قرآن کی ہدایت سے جوڑا گیا ہے۔
- سوال آنے پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دلیل کے ساتھ جواب دیا۔
