صحیح بخاری حدیث ۵۹۴۴ - ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کی تائید
ام یعقوب کے ذریعے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کی تائید
صحیح بخاری : ۵۹۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۴۴
حَدَّثَنِي ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : ذَكَرْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ حَدِيثَ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ أُمِّ يَعْقُوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، مِثْلَ حَدِيثِ مَنْصُورٍ .
عبدالرحمٰن روایت:
´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے منصور کی حدیث ذکر کی جو وہ ابراہیم سے بیان کرتے تھے کہ ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تو عبدالرحمٰن نے کہا کہ` میں نے بھی منصور کی حدیث کی طرح ام یعقوب سے سنا ہے وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتی تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۴۴ کا خلاصہ
یہ حدیث اصل حکم کی تفصیل نہیں بلکہ پچھلی روایت کی تائید کے طور پر آئی ہے۔ محمد بن بشار کی سند سے بیان ہوا کہ سفیان بن عیینہ نے عبدالرحمٰن بن عابس کے سامنے منصور کی وہ حدیث ذکر کی جو ابراہیم، علقمہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تھی۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے بھی ام یعقوب سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے منصور کی حدیث جیسی بات سنی ہے۔ اس لیے اس روایت کا موضوع “روایت کی تائید” ہے۔ یہ خود الگ حکم نہیں بڑھاتی، بلکہ سابقہ مضمون، یعنی گودنے، چہرے کے بال اکھاڑنے اور خلقت بدلنے والی روایت کی سندی تائید پیش کرتی ہے۔ تشریح میں اسی حد تک رہنا درست ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت سابقہ حدیث کے مضمون کی تائید کے طور پر آئی ہے۔
- عبدالرحمٰن بن عابس نے ام یعقوب کے واسطے سے وہی بات سننے کا ذکر کیا۔
- ہر حدیث میں حکم کی نئی تفصیل نہیں ہوتی؛ کبھی روایت سابقہ بات کو مضبوط انداز میں نقل کرتی ہے۔
