صحیح بخاری حدیث ۵۹۲۶ - داہنی طرف سے آغاز کی سنت
داہنی طرف سے آغاز: وضو اور کنگھا کرنے کی محبوب سنت
صحیح بخاری : ۵۹۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۲۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ مَا اسْتَطَاعَ فِي تَرَجُّلِهِ وَوُضُوئِهِ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام میں جہاں تک ممکن ہوتا داہنی طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، کنگھا کرنے اور وضو کرنے میں بھی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام بہت سادہ ہے: نبی کریم صلى الله عليه وسلم جہاں تک ممکن ہوتا، کام داہنی طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ روایت میں خاص طور پر کنگھا کرنے اور وضو کرنے کا ذکر آیا ہے، اس لیے داہنی طرف سے آغاز، وضو میں دائیں جانب کو مقدم کرنا، اور بال سنوارتے وقت دائیں طرف کا خیال رکھنا اس حدیث سے سمجھ آتا ہے۔ یہ کوئی مشکل عمل نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کی ایک آسان سنت ہے۔ انسان وضو، صفائی اور بال سنوارنے جیسے کاموں میں بھی نبی صلى الله عليه وسلم کی پسند کو یاد رکھ سکتا ہے۔ حدیث میں “جہاں تک ممکن ہو” کے الفاظ بھی اہم ہیں، اس لیے بات آسانی اور استطاعت کے دائرے میں ہے، سختی یا تکلف کے انداز میں نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وضو اور کنگھا کرنے جیسے روزمرہ کاموں میں داہنی طرف سے آغاز پسندیدہ طریقہ ہے۔
- سنت پر عمل چھوٹے کاموں میں بھی ہو سکتا ہے، صرف بڑے اعمال تک محدود نہیں۔
- حدیث میں استطاعت کا ذکر ہے، اس لیے عمل میں آسانی اور گنجائش کو ملحوظ رکھا جائے۔
