صحیح بخاری حدیث ۱۹۰۴ - روزہ ڈھال ہے اور اللہ کے لیے ہے

روزہ ڈھال ہے: روزہ دار کے آداب اور خوشیاں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۰۴

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ : " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ ، إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا : إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ پاک فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو اسے فحش گوئی نہ کرنی چاہئے اور نہ شور مچائے، اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے، روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی (ایک تو جب) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور (دوسرے) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہو گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۹۰۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں روزے کی خاص فضیلت اور روزہ دار کے آداب بیان ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل اسی کے لیے ہے، مگر روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔ اس لیے روزہ دار کو فحش بات، شور شرابہ اور لڑائی سے بچنا چاہیے۔ اگر کوئی گالی دے یا لڑنا چاہے تو وہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔ حدیث میں روزہ دار کے لیے دو خوشیوں کا ذکر ہے: ایک افطار کے وقت، اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ یہ حدیث روزے کو عبادت کے ساتھ ساتھ صبر اور ضبط کا عمل بھی بناتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روزہ اللہ کے لیے خاص عبادت ہے۔
  • روزہ دار کو بدزبانی اور جھگڑے سے بچنا چاہیے۔
  • لڑائی کے موقع پر روزہ دار کو اپنا روزہ یاد رکھنا چاہیے۔
  • افطار روزہ دار کے لیے خوشی کا لمحہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں