صحیح مسلم حدیث ۲۴۰۳ - لوگوں سے نہ مانگنے کی بیعت

لوگوں سے کچھ نہ مانگنے کی حدیث: خودداری کا وعدہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۰۳

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ سَلَمَةُ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ الدَّارِمِيُّ : أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ ، أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ ، وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً ، فَقَالَ : " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ؟ " ، وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ ، فَقُلْنَا : قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ؟ " ، فَقُلْنَا : قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا ، وَقُلْنَا : قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ ؟ قَالَ : " عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا ، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً ، وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ ، يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ ، فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ " .

ابومسلم خولانی روایت:

ابی ادریس خولانی، ابومسلم خولانی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ روایت کی مجھ سے ایک دوست امانتدار نے بیشک وہ میرے دوست اور میرے نزدیک امانتدار ہیں۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے نو یا آٹھ یا سات آدمی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیعت نہیں کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔“ اور ہم ان دنوں بیعت کر چکے تھے تو ہم نے عرض کی ہم تو آپ سے بیعت کر چکے ہیں اے اللہ کے رسول، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیعت نہیں کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔“ہم نے عرض کی: کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر فرمایا: ”تم بیعت نہیں کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔“ پھر ہم نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور عرض کیا کہ ہم تو بیعت اول کر چکے ہیں۔ اب کس بات کی بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبادت کرو اللہ کی اور نہ شرک کرو اس کے ساتھ کسی کو اور نمازوں کی پنجگانہ اور اللہ کی فرمانبرداری کرو اور ایک بات چپکے سے کہی کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگو۔“ تو میں نے اس میں سے بعض کو دیکھا کہ ان کا کوڑا گر پڑتا تھا (یعنی اونٹ پر سے) تو کسی سے سوال نہ کرتے کہ وہ اٹھا دے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۴۰۳ کا خلاصہ

یہ حدیث خودداری، عبادت اور اطاعت کا جامع سبق دیتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے انہیں اللہ کی عبادت، شرک سے بچنے، پانچ نمازوں اور فرمانبرداری کا حکم دیا۔ پھر ایک بات آہستہ سے فرمائی کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگو۔ اس جملے کا اثر اتنا گہرا تھا کہ روایت میں آتا ہے کہ بعض صحابہ کا کوڑا گر جاتا تو وہ کسی سے اٹھانے کو بھی نہ کہتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال نہ کرنے کی حدیث صرف مال مانگنے تک محدود مزاج نہیں بناتی بلکہ دل میں خودداری پیدا کرتی ہے۔ اس روایت میں عبادت، نماز، اطاعت اور لوگوں سے بے جا سوال سے بچنے کو ایک عملی وعدے کی شکل میں بیان کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی عبادت اور شرک سے بچنا بیعت کے بنیادی امور میں آیا۔
  • پانچ نمازوں کی پابندی اس روایت میں صاف ذکر ہوئی ہے۔
  • لوگوں سے بلا ضرورت کچھ نہ مانگنا خودداری کی علامت ہے۔
  • صحابہ نے اس نصیحت کو بہت سنجیدگی سے لیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں