صحیح بخاری حدیث ۱۴۷۰ - محنت کرنا بہتر ہے
محنت کی فضیلت: لوگوں سے مانگنے کے بجائے کمانا
صحیح بخاری : ۱۴۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۷۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر کوئی شخص رسی سے لکڑیوں کا بوجھ باندھ کر اپنی پیٹھ پر جنگل سے اٹھا لائے (پھر انہیں بازار میں بیچ کر اپنا رزق حاصل کرے) تو وہ اس شخص سے بہتر ہے جو کسی کے پاس آ کر سوال کرے۔ پھر جس سے سوال کیا گیا ہے وہ اسے دے یا نہ دے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خودداری اور محنت کی بہت واضح تعلیم دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا کہ کوئی شخص رسی لے، لکڑیاں باندھے، اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لائے اور پھر انہیں بیچ کر رزق حاصل کرے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جا کر سوال کرے، چاہے وہ دے یا نہ دے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ جائز محنت چھوٹی نہیں ہوتی۔ لکڑیاں جمع کرنا بظاہر سخت کام ہے، مگر اس میں عزت باقی رہتی ہے۔ دوسری طرف بلا ضرورت مانگنا انسان کو لوگوں کے سامنے محتاج بنا دیتا ہے۔ اس لیے اسلام محنت، خودداری اور حلال کمائی کی ترغیب دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جائز محنت کرنا لوگوں سے مانگنے سے بہتر ہے۔
- رزق کے لیے جسمانی محنت بھی عزت کا کام ہے۔
- لوگ دیں یا نہ دیں، سوال کرنے میں آدمی کی خودداری متاثر ہو سکتی ہے۔
- حلال کمائی کے لیے کوشش کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
