صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۷ - اوپر والا ہاتھ بہتر ہے
اوپر والا ہاتھ بہتر ہے: سخاوت اور خودداری کا سبق
صحیح بخاری : ۱۴۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۲۷
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ " .
حکیم بن حزام روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور پہلے انہیں دو جو تمہارے بال بچے اور عزیز ہیں اور بہترین صدقہ وہ ہے جسے دے کر آدمی مالدار رہے اور جو کوئی سوال سے بچنا چاہے گا اسے اللہ تعالیٰ بھی محفوظ رکھتا ہے اور جو دوسروں (کے مال) سے بےنیاز رہتا ہے ‘ اسے اللہ تعالیٰ بےنیاز ہی بنا دیتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ پہلے انہیں دو جو تمہارے بال بچے اور عزیز ہیں، اور بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی مالدار رہے۔ حدیث میں سوال سے بچنے اور دوسروں کے مال سے بے نیاز رہنے کی بھی تعلیم ہے۔ جو شخص سوال سے بچنا چاہے، اللہ اسے بچاتا ہے، اور جو بے نیازی اختیار کرے، اللہ اسے بے نیاز بنا دیتا ہے۔ اس حدیث کا پیغام بہت عملی ہے: انسان دینے والا بننے کی کوشش کرے، اپنے گھر والوں کا خیال رکھے، صدقہ سمجھ داری سے دے، اور بلا ضرورت لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
- صدقہ میں اہل خانہ اور عزیزوں کا حق پہلے آتا ہے۔
- بلا ضرورت سوال سے بچنا خودداری کی علامت ہے۔
- بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی بنیادی ضرورت باقی رکھتے ہوئے دیا جائے۔
