صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۶ - بہترین صدقہ اور اہل خانہ
بہترین صدقہ: پہلے اپنے زیر پرورش لوگوں کا حق
صحیح بخاری : ۱۴۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۲۶
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین خیرات وہ ہے جس کے دینے کے بعد آدمی مالدار رہے۔ پھر صدقہ پہلے انہیں دو جو تمہاری زیر پرورش ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں صدقہ کا ایک بہت عملی اصول بتایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بہترین خیرات وہ ہے جس کے دینے کے بعد آدمی مالدار رہے، یعنی آدمی ایسا صدقہ کرے جو اسے یا اس کے گھر والوں کو محتاج نہ بنا دے۔ پھر فرمایا کہ صدقہ پہلے انہیں دو جو تمہاری زیر پرورش ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صدقہ کی ترغیب دیتا ہے مگر ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اہل خانہ، بچے، والدین یا وہ لوگ جن کی کفالت انسان پر ہے، ان کا حق پہلے آتا ہے۔ صدقہ کی فضیلت اسی وقت خوب ہے جب وہ سمجھ داری، توازن اور ذمہ داری کے ساتھ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ دیتے وقت اپنی ضروری ذمہ داریوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
- زیر کفالت لوگوں کا حق پہلے ادا کیا جائے۔
- بہترین صدقہ وہ ہے جو انسان کو خود محتاج نہ بنا دے۔
- نیکی میں توازن اور سمجھ داری بھی ضروری ہے۔
