صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۹ - دینے والا ہاتھ افضل ہے
اوپر والا ہاتھ کون سا ہے؟ خرچ کرنے والا ہاتھ بہتر ہے
صحیح بخاری : ۱۴۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۲۹
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : " وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ , وَالتَّعَفُّفَ , وَالْمَسْأَلَةَ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، فَالْيَدُ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ ، وَالسُّفْلَى هِيَ السَّائِلَةُ " .
ابن عمر روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (دوسری سند) اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے صدقہ اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے منبر پر صدقہ، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر فرمایا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے واضح کیا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا۔ یہ بات بہت صاف انداز میں سمجھاتی ہے کہ اسلام انسان کو دینے والا، مدد کرنے والا اور خوددار بنانا چاہتا ہے۔ اس حدیث میں صدقہ کی فضیلت بھی ہے اور بلا ضرورت مانگنے سے بچنے کی ترغیب بھی۔ آدمی جب دوسروں کی مدد کرتا ہے تو اس کا ہاتھ بلند ہوتا ہے۔ اور جب وہ بے ضرورت لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر راستہ نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہاتھ ہے۔
- نیچے والا ہاتھ مانگنے والے کا ہاتھ ہے۔
- صدقہ انسان کو دینے والا بناتا ہے۔
- بلا ضرورت سوال سے بچنا بہتر ہے۔
