صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۰ - صدقہ تقسیم کرنے میں جلدی
صدقہ کا مال روکنا نہیں: نیکی میں جلدی کا نبوی انداز
صحیح بخاری : ۱۴۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۳۰
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَن عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ , قَالَ : " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَأَسْرَعَ ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ فَقُلْتُ أَوْ قِيلَ لَهُ : فَقَالَ : كُنْتُ خَلَّفْتُ فِي الْبَيْتِ تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَةِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُبَيِّتَهُ فَقَسَمْتُهُ " .
عقبہ بن حارث روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی پھر جلدی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد باہر تشریف لے آئے۔ اس پر میں نے پوچھا یا کسی اور نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں گھر کے اندر صدقہ کے سونے کا ایک ٹکڑا چھوڑ آیا تھا مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ اسے تقسیم کئے بغیر رات گزاروں پس میں نے اس کو بانٹ دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر جلدی سے گھر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر بعد باہر آگئے۔ پوچھنے پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ گھر میں صدقہ کے سونے کا ایک ٹکڑا رہ گیا تھا، مجھے پسند نہ آیا کہ اسے تقسیم کیے بغیر رات گزاروں، اس لیے میں نے اسے بانٹ دیا۔ اس حدیث میں صدقہ کے مال کے بارے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی احتیاط اور جلدی ظاہر ہوتی ہے۔ جب مال صدقہ کا ہو تو اسے مستحق لوگوں تک پہنچانا اہم ہے۔ یہ حدیث ہمیں نیکی میں پھرتی، ذمہ داری اور امانت کی ادائیگی کا سادہ مگر مضبوط سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ کے مال کو بلا وجہ روک کر نہیں رکھنا چاہیے۔
- نیکی کے کام میں جلدی کرنا بہتر ہے۔
- امانت کو اس کے حق دار تک پہنچانا ضروری ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم صدقہ کے معاملے میں بہت احتیاط فرماتے تھے۔
