صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۴ - صدقہ کرنے میں دیر نہ کرو
صدقہ میں جلدی: آج کا موقع کل نہ ملے
صحیح بخاری : ۱۴۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۲۴
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : أَخْبَرَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " تَصَدَّقُوا ، فَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ لقَبِلْتُهَا مِنْكَ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا " .
حارثہ بن وہب خزاعی روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہ کیا کرو پس عنقریب ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جب آدمی اپنا صدقہ لے کر نکلے گا (کوئی اسے قبول کر لے مگر جب وہ کسی کو دے گا تو وہ) آدمی کہے گا کہ اگر اسے تم کل لائے ہوتے تو میں لے لیتا لیکن آج مجھے اس کی حاجت نہیں رہی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا اور بتایا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب آدمی اپنا صدقہ لے کر نکلے گا، مگر جسے وہ دینا چاہے گا وہ کہے گا کہ اگر کل لاتے تو لے لیتا، آج مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ اس حدیث کا سادہ پیغام یہ ہے کہ نیکی کے موقع کو ٹالنا نہیں چاہیے۔ جب مال موجود ہو، نیت ہو، اور ضرورت مند بھی مل رہا ہو تو صدقہ کر دینا بہتر ہے۔ صدقہ کی فضیلت صرف دینے میں نہیں بلکہ وقت پر دینے میں بھی ہے۔ آدمی کل کا انتظار کرتے کرتے موقع کھو سکتا ہے۔ اس لیے حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خیرات، مدد اور نیکی میں سستی نہ کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ کرنے کا موقع ملے تو بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
- وقت بدل سکتا ہے اور حاجت مند کی حالت بھی بدل سکتی ہے۔
- نیکی کے کام کو کل پر ڈالنا مناسب نہیں۔
- مال موجود ہو تو اسے خیر کے کام میں لگانا بہتر ہے۔
