صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۴ - جہاں تک ہو سکے خیرات کرو
جہاں تک ہو سکے خیرات کرو: مال کو صرف بند نہ رکھو
صحیح بخاری : ۱۴۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۳۴
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " لَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ، ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ " .
اسماء بنت ابی بکر روایت:
´ہم سے ابوعاصم (ابوعاصم ضحاک) نے بیان کیا اور ان سے ابن جریج نے بیان کیا۔ (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ ان سے حجاج بن محمد نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی ‘ انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ` وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (مال کو) تھیلی میں بند کر کے نہ رکھنا ورنہ اللہ پاک بھی تمہارے لیے اپنے خزانے میں بندش لگا دے گا۔ جہاں تک ہو سکے لوگوں میں خیر خیرات تقسیم کرتی رہ۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مال کو تھیلی میں بند کر کے نہ رکھنا، ورنہ اللہ بھی تمہارے لیے بندش لگا دے گا، اور جہاں تک ہو سکے لوگوں میں خیر خیرات کرتی رہو۔ اس حدیث کا سادہ پیغام یہ ہے کہ انسان مال کو صرف جمع کرنے کی سوچ نہ رکھے۔ جب ضرورت مند سامنے آئے اور استطاعت ہو تو خرچ کرے۔ حدیث میں استطاعت کا لفظی مفہوم بھی موجود ہے، یعنی انسان اپنی طاقت کے مطابق دے۔ یہ بات بہت اہم ہے، کیونکہ اسلام سخاوت سکھاتا ہے مگر انسان پر ایسی مشقت نہیں ڈالتا جس کی وہ طاقت نہ رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کو صرف بند کر کے رکھنے کی عادت اچھی نہیں۔
- خیرات اپنی استطاعت کے مطابق کرنی چاہیے۔
- ضرورت مندوں میں مال تقسیم کرنا نیکی کا کام ہے۔
- سخاوت میں توازن اور طاقت کا خیال رکھنا چاہیے۔
