صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۳ - سات خوش نصیب اور چھپا صدقہ
سات خوش نصیب لوگ: اخلاص، عبادت اور چھپا صدقہ
صحیح بخاری : ۱۴۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۲۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ : حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ، إِمَامٌ عَدْلٌ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ , فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے (عرش کے) سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ انصاف کرنے والا حاکم ‘ وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوان ہوا ہو ‘ وہ شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہے ‘ دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں ‘ اسی پر وہ جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے ‘ ایسا شخص جسے کسی خوبصورت اور عزت دار عورت نے بلایا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘ وہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور وہ شخص جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بہنے لگ جائیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۳ کا خلاصہ
یہ مشہور حدیث سات قسم کے لوگوں کا ذکر کرتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا جب اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ اس میں انصاف کرنے والا حاکم، عبادت میں جوان ہونے والا نوجوان، مسجد سے دل لگانے والا شخص، اللہ کے لیے محبت کرنے والے دو لوگ، اللہ کے خوف سے گناہ سے رکنے والا شخص، چھپا صدقہ کرنے والا، اور تنہائی میں اللہ کو یاد کر کے رونے والا شامل ہیں۔ اس حدیث میں چھپا صدقہ خاص طور پر اخلاص کی علامت کے طور پر آیا ہے، یعنی انسان صدقہ اس طرح دے کہ دکھاوا نہ ہو۔ یہ سبق دیتا ہے کہ عبادت، پاکیزگی، انصاف، اللہ کا خوف اور خاموش نیکی انسان کو اللہ کے قریب کرنے والے اعمال ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چھپا صدقہ اخلاص کی ایک خوب صورت صورت ہے۔
- اللہ کے خوف سے گناہ سے رکنا بہت بڑی نیکی ہے۔
- نوجوانی میں عبادت کی عادت خاص اہمیت رکھتی ہے۔
- تنہائی میں اللہ کو یاد کرنا دل کی نرمی کی نشانی ہے۔
