صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۹ - تنہائی کا ذکر اور آنسو

تنہائی میں اللہ کا ذکر: آنسو اور اخلاص کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۷۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ : رَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات طرح کے لوگ وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں پناہ دے گا۔ (ان میں) ایک وہ شخص بھی ہے جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک خاص صفت بیان کی گئی ہے: بندہ تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سات قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں پناہ دے گا، ان میں ایک وہ شخص ہے جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس حدیث میں دکھاوے کی بات نہیں، تنہائی کی بات ہے۔ جب انسان اکیلا ہو، کوئی دیکھنے والا نہ ہو، پھر بھی اللہ کی یاد دل کو نرم کر دے، تو یہ اخلاص کی نشانی ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کی یاد صرف زبان کا عمل نہیں، دل پر اثر ڈالنے والی عبادت بھی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تنہائی میں اللہ کو یاد کرنا اخلاص کے قریب عمل ہے۔
  • اللہ کی یاد دل کو نرم کر سکتی ہے۔
  • آنسو کا ذکر حدیث میں اللہ کے خوف اور یاد کے ساتھ آیا ہے۔
  • دکھاوے سے الگ عبادت کی اپنی قدر ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں