صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۸ - ایک بات سے رضا یا ناراضی
اللہ کی رضا والی بات: زبان کا وزن اور اثر
صحیح بخاری : ۶۴۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۷۸
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْني ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا ، يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا ، يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ اللہ کی رضا مندی کے لیے ایک بات زبان سے نکالتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اسی کی وجہ سے اللہ اس کے درجے بلند کر دیتا ہے اور ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں زبان کی طاقت کو دونوں رخ سے بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بندہ اللہ کی رضا کی ایک بات کہتا ہے، اسے وہ اہم نہیں سمجھتا، مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کے درجے بلند فرما دیتا ہے۔ اور دوسرا بندہ اللہ کی ناراضی والی بات کہتا ہے، اسے وہ اہم نہیں سمجھتا، مگر وہ اس کی وجہ سے جہنم میں جا گرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بات صرف آواز نہیں، عمل بھی ہے۔ اچھی بات، سچی بات، اللہ کو راضی کرنے والی بات بندے کے لیے فائدہ بن سکتی ہے۔ دوسری طرف لاپرواہ، گناہ والی یا ناراضی والی بات بہت نقصان دے سکتی ہے۔ اس لیے زبان کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچھی بات اللہ کی رضا کا سبب بن سکتی ہے۔
- لاپرواہی سے کہی گئی بری بات نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
- زبان سے نکلنے والی بات کا وزن ہے۔
- بولنے سے پہلے سوچنا ایمان والے اخلاق میں شامل ہے۔
