صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۷ - زبان کی بے احتیاطی

زبان کی بے احتیاطی کی حدیث: ایک لفظ کا انجام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۷۷

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ فِيهَا ، يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مِمَّا بَيْنَ الْمَشْرِقِ " .

ابوہریرہ روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں (کتنی کفر اور بےادبی کی بات ہے) جس کی وجہ سے وہ دوزخ کے گڑھے میں اتنی دور گر پڑتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۷ کا خلاصہ

یہ حدیث زبان کی بے احتیاطی کے بارے میں سخت تنبیہ کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اور اس کے بارے میں غور نہیں کرتا، پھر اسی وجہ سے وہ دوزخ کے گڑھے میں اتنی دور گر پڑتا ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ اس حدیث کا پیغام بہت صاف ہے: ہر بات معمولی نہیں ہوتی۔ آدمی کبھی مذاق، غصے، لاپرواہی یا عادت میں ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے نتیجے کا اسے خیال نہیں ہوتا۔ اس لیے زبان کی حفاظت، سوچ کر بولنا، اور بے ادبی یا گناہ والی بات سے بچنا بہت ضروری ہے۔ حدیث صرف ایک لفظ کی خطرناکی یاد دلاتی ہے، اس لیے اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بے سوچے بولنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
  • زبان کا ایک لفظ بھی آخرت میں نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
  • بات کہنے سے پہلے اس کے مطلب پر غور کرنا چاہیے۔
  • بے ادبی اور گناہ والی بات سے بچنا ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں