صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۰ - اللہ کا خوف اور مغفرت
اللہ کے خوف کی حدیث: ایک شخص کی مغفرت کا واقعہ
صحیح بخاری : ۶۴۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۸۰
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَخُذُونِي ، فَذَرُّونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ ، فَفَعَلُوا بِهِ ، فَجَمَعَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ ، قَالَ : مَا حَمَلَنِي إِلَّا مَخَافَتُكَ فَغَفَرَ لَهُ " .
حذیفہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پچھلی امتوں میں کا، ایک شخص جسے اپنے برے عملوں کا ڈر تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو میری لاش ریزہ ریزہ کر کے گرم دن میں اٹھا کے دریا میں ڈال دینا۔ اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جمع کیا اور اس سے پوچھا کہ یہ جو تم نے کیا اس کی وجہ کیا ہے؟ اس شخص نے کہا کہ پروردگار مجھے اس پر صرف تیرے خوف نے آمادہ کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۰ کا خلاصہ
یہ حدیث اللہ کے خوف اور مغفرت کے بارے میں ایک واقعہ بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں ایک شخص تھا جسے اپنے برے اعمال کا ڈر تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو میری لاش ریزہ ریزہ کر کے گرم دن میں دریا میں ڈال دینا۔ گھر والوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جمع کیا اور پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس شخص نے جواب دیا کہ اے پروردگار! مجھے اس پر صرف تیرے خوف نے آمادہ کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ اللہ کا خوف بندے کے دل کی کیفیت ہے، اور اللہ بندے کی نیت و حال کو جانتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنے برے اعمال کا خوف انسان کو سنجیدہ بناتا ہے۔
- اللہ بندے کے دل کی کیفیت جانتا ہے۔
- اس واقعے میں مغفرت کا سبب اللہ کا خوف بیان ہوا۔
- گناہوں کو معمولی سمجھنے کے بجائے اللہ سے ڈرنا چاہیے۔
