صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۱ - گناہوں کے بعد اللہ کا خوف

گناہ گار شخص کی مغفرت: خوف خدا دل بدل دیتا ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۸۱

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ يُسْرِفُ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ ، قَالَ : لِبَنِيهِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اطْحَنُونِي ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الرِّيحِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ أَحَدًا ، فَلَمَّا مَاتَ فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ فَأَمَرَ اللَّهُ الْأَرْضَ ، فَقَالَ : اجْمَعِي مَا فِيكِ مِنْهُ فَفَعَلَتْ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ ، قَالَ : يَا رَبِّ خَشْيَتُكَ فَغَفَرَ لَهُ ، وَقَالَ غَيْرُهُ مَخَافَتُكَ يَا رَبِّ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص بہت گناہ کیا کرتا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹوں سے اس نے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا ڈالنا پھر میری ہڈیوں کو پیس کر ہوا میں اڑا دینا اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھے پکڑ لیا تو مجھے اتنا سخت عذاب کرے گا جو پہلے کسی کو بھی اس نے نہیں کیا ہو گا۔ جب وہ مر گیا تو (اس کی وصیت کے مطابق) اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم فرمایا کہ اگر ایک ذرہ بھی کہیں اس کے جسم کا تیرے پاس ہے تو اسے جمع کر کے لا۔ زمین حکم بجا لائی اور وہ بندہ اب (اپنے رب کے سامنے) کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا: اے رب! تیرے ڈر کی وجہ سے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سوا دوسرے صحابہ نے اس حدیث میں لفظ «خشيتك‏» کے بدل «مخافتك» کہا ہے (دونوں لفظوں کا مطلب ایک ہی ہے)۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کا واقعہ بیان فرمایا جو اپنے نفس پر زیادتی کرتا تھا، یعنی بہت گناہ کرتا تھا۔ موت کے وقت اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ مجھے جلا دینا، پیس دینا اور ہوا میں اڑا دینا۔ اسے ڈر تھا کہ اگر اللہ نے اسے پکڑ لیا تو سخت عذاب دے گا۔ جب ایسا کیا گیا تو اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اس کے ذرے جمع کرے۔ پھر اللہ نے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: اے رب! تیرے ڈر کی وجہ سے۔ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی۔ یہ حدیث خوف خدا اور اللہ کی رحمت کا بڑا سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گناہوں کے باوجود بندے کو اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
  • اللہ کے ڈر کا دل میں ہونا بہت اہم ہے۔
  • اللہ تعالیٰ ہر ذرہ جمع کرنے پر قادر ہے۔
  • اللہ کی مغفرت اس کی رحمت سے ہے، اس لیے امید کے ساتھ اصلاح ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں