صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۲ - بلی کو قید کرنے کی سزا

بلی والی حدیث: جانور پر ظلم بھی سنگین گناہ ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۸۲

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا ، وَلَا سَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا ، وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(بنی اسرائیل کی) ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا تھا جسے اس نے قید کر رکھا تھا جس سے وہ بلی مر گئی تھی اور اس کی سزا میں وہ عورت دوزخ میں گئی۔ جب وہ عورت بلی کو باندھے ہوئے تھی تو اس نے اسے کھانے کے لیے کوئی چیز نہ دی، نہ پینے کے لیے اور نہ اس نے بلی کو چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۲ کا خلاصہ

یہ حدیث جانوروں کے حقوق اور ظلم سے بچنے کے بارے میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اس نے بلی کو قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ نہ اس نے اسے کھانا دیا، نہ پانی دیا، اور نہ اسے آزاد چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ حدیث کا پیغام صاف ہے کہ بے زبان مخلوق پر ظلم کرنا معمولی بات نہیں۔ اگر کوئی جانور ہمارے قبضے میں ہے تو اس کے کھانے پینے کا خیال رکھنا لازم ہے، ورنہ اسے آزاد چھوڑ دینا چاہیے۔ رحم اسلام کے اخلاق کا اہم حصہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جانور کو قید کر کے بھوکا پیاسا رکھنا ظلم ہے۔
  • بے زبان مخلوق کے حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • اگر جانور کی دیکھ بھال نہ کر سکیں تو اسے آزاد چھوڑنا چاہیے۔
  • رحم کے خلاف رویہ اللہ کے عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں