صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۹ - سفر میں روزہ اور افطار پر طعنہ نہیں
سفر میں روزہ رکھنے یا افطار کرنے والے پر عیب نہ لگائیں
صحیح مسلم : ۲۶۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۱۹
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ مَرْوَانَ ، قَالَ سَعِيدٌ : أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنهم ، قَالَا : " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ ، فَلَا يَعِيبُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ " .
سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا اور روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا تھا اور افطار کرنے والا افطار اور کوئی کسی پر عیب نہ کرتا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۹ کا خلاصہ
یہ حدیث دو صحابہ، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم، کے بیان سے آئی ہے۔ دونوں فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سفر کیا۔ اس سفر میں روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا تھا اور افطار کرنے والا افطار کرتا تھا۔ پھر صاف الفاظ میں بتایا گیا کہ کوئی کسی پر عیب نہیں لگاتا تھا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع سفر میں روزہ اور باہمی احترام ہے۔ یہ روایت بہت عملی سبق دیتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں ایک دوسرے پر سختی کرتے ہیں۔ متن ہمیں صرف اتنا بتاتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سفر میں دونوں صورتیں موجود تھیں، اور صحابہ نے ایک دوسرے کو برا نہیں کہا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھنے والے بھی تھے اور افطار کرنے والے بھی۔
- صحابہ ایک دوسرے پر عیب نہیں لگاتے تھے۔
- جس مسئلے میں دونوں عمل ملیں، وہاں نرمی بہتر ہے۔
- دوسرے کی حالت جانے بغیر طعنہ دینا مناسب نہیں۔
