صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۵ - سفر میں روزہ اور باہمی احترام
سفر میں روزہ رکھنے اور افطار کرنے والوں کا احترام
صحیح مسلم : ۲۶۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۱۵
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ، فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ " ،
ابو سعید خدری روایت:
جہاد کیا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہویں رمضان کو تو ہم میں سے کوئی روزے سے تھا اور کوئی افطار کیے تھا اور روزہ دار افطار کرنے والے پر عیب نہ کرتا تھا اور نہ افطار کرنے والا روزہ دار پر۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۵ کا خلاصہ
یہ حدیث رمضان میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ جہاد کے سفر کا حال بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ رمضان کی سولہویں تاریخ کو جہاد کے لیے نکلے۔ ہم میں سے کچھ لوگ روزے سے تھے اور کچھ افطار کیے ہوئے تھے۔ پھر انہوں نے بہت اہم بات بیان کی کہ روزہ دار افطار کرنے والے پر عیب نہیں لگاتا تھا، اور افطار کرنے والا روزہ دار پر عیب نہیں لگاتا تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع سفر میں روزہ، افطار، اور باہمی احترام ہے۔ اس میں کوئی سخت بحث نہیں، بلکہ صحابہ کے عمل کا سادہ نمونہ ہے۔ جہاں نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ رہنے والے لوگوں نے دونوں صورتوں کو دیکھا، وہاں انہوں نے ایک دوسرے پر طعنہ نہیں کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں کچھ صحابہ روزہ رکھتے تھے اور کچھ افطار کرتے تھے۔
- روزہ دار افطار کرنے والے پر عیب نہیں لگاتا تھا۔
- افطار کرنے والا روزہ دار کو برا نہیں کہتا تھا۔
- جس معاملے میں گنجائش ہو، وہاں باہمی احترام ضروری ہے۔
