صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۴ - اللہ کی دی ہوئی رخصت قبول کرو

سفر میں اللہ کی رخصت قبول کرنے کی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۱۴

وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ : وَكَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَزِيدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّهُ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّذِي رَخَّصَ لَكُمْ " ، قَالَ : فَلَمَّا سَأَلْتُهُ لَمْ يَحْفَظْهُ .

شعبہ روایت:

شعبہ سے اسی اسناد سے مانند اسی کے مروی ہے اور زیادہ کہا شعبہ نے کہ مجھے خبر لگی ہے یحییٰ بن ابی کثیر سے کہ وہ زیادہ کرتے تھے اس حدیث میں اور اس اسناد میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی رخصت قبول کرو جو تمہارے لیے دی ہے۔“ اور کہا راوی نے پھر جب میں نے ان سے پوچھا تو انہیں یاد نہیں رہا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۴ کا خلاصہ

یہ روایت سفر میں روزہ رکھنے کے مسئلے سے متعلق ہے۔ شعبہ نے اسی سند سے پچھلی روایت جیسی بات بیان کی، پھر ایک اضافی بات کا ذکر کیا کہ انہیں یحییٰ بن ابی کثیر سے یہ بات پہنچی تھی کہ وہ اس حدیث میں یہ اضافہ کرتے تھے: اللہ کی وہ رخصت قبول کرو جو تمہارے لیے دی گئی ہے۔ پھر راوی نے یہ بھی بتایا کہ جب انہوں نے ان سے پوچھا تو انہیں یہ اضافہ یاد نہیں رہا۔ اس حدیث میں سفر، روزہ، رخصت، اور روایت کی احتیاط سب اکٹھے آتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ متن خود ہمیں احتیاط سکھاتا ہے؛ ایک اضافہ نقل ہوا، مگر ساتھ ہی اس کے یاد نہ رہنے کا ذکر بھی آیا۔ اس لیے اس روایت کو بیان کرتے وقت الفاظ کی امانت ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں رخصت کا مضمون روایت میں آیا ہے۔
  • راوی نے اضافی الفاظ کے بارے میں احتیاط بھی نقل کی۔
  • حدیث بیان کرتے وقت یادداشت اور الفاظ کی امانت اہم ہے۔
  • اللہ کی دی ہوئی آسانی کو سمجھنا دین کے مزاج سے جڑا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں