صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۲ - سفر میں مشقت کے ساتھ روزہ
سفر میں مشقت کے ساتھ روزہ رکھنا نیکی نہیں
صحیح مسلم : ۲۶۱۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۱۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَرَأَى رَجُلًا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا لَهُ ؟ " ، قَالُوا : رَجُلٌ صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ " ،
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے کہ ایک شخص پر لوگوں کی بھیڑ دیکھی اور وہ اس پر سایہ کئیے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کو کیا ہوا؟۔“ لوگوں نے عرض کی کہ ایک روزہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا خوب نہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۲ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر میں روزہ رکھنے کے مسئلے کو ایک خاص حالت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سفر میں تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص کے گرد لوگ جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا جا رہا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ اسے کیا ہوا؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ روزہ دار ہے۔ اس پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔ اس حدیث کا اہم نکتہ یہ ہے کہ یہاں روزہ دار کی حالت کمزوری اور مشقت والی تھی، اسی لیے لوگ اس پر سایہ کیے ہوئے تھے۔ اس متن سے سفر میں روزہ، مشقت، کمزوری، اور رخصت کا مضمون سامنے آتا ہے۔ عام بات یہ ہے کہ عبادت میں ایسی سختی اختیار نہیں کرنی چاہیے جو انسان کو اس حال تک پہنچا دے جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں روزے سے شدید مشقت ہو تو افطار کی گنجائش سمجھنی چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اس شخص کی حالت دیکھ کر بات فرمائی۔
- دین میں اپنی طاقت اور حالت کا لحاظ کیا جاتا ہے۔
- عبادت کے نام پر خود کو ایسی تکلیف میں ڈالنا مناسب نہیں جس سے کمزوری ظاہر ہو۔
