صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۳ - سفر میں روزے والی روایت کی دوسری سند
سفر میں روزہ والی حدیث کی تائیدی روایت
صحیح مسلم : ۲۶۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۱۳
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۳ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ متن میں صاف کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث اسی سند سے بھی مروی ہے۔ یعنی اصل واقعہ وہی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سفر میں ایک شخص کو دیکھا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ روزہ دار ہے، اور پچھلی روایت میں اسی موقع پر سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں بات آئی۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع سفر میں روزہ اور روایت کی تائید ہے۔ یہاں کوئی نیا حکم الگ سے بیان نہیں ہوا، بلکہ اسی مضمون کی دوسری نقل کا ذکر ہے۔ عام قاری کے لیے یہ بات مفید ہے کہ حدیث کی کتابوں میں کبھی ایک ہی واقعہ مختلف سندوں سے آتا ہے۔ اس سے روایت کے نقل ہونے کا طریقہ سامنے آتا ہے، مگر ہمیں ہر جگہ متن کے الفاظ ہی کو بنیاد بنانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی حدیث مختلف سندوں سے روایت ہو سکتی ہے۔
- یہ روایت پچھلے مضمون کی تائید کے طور پر آئی ہے۔
- نیا حکم بیان کرنے کے بجائے سابقہ روایت کا حوالہ دیا گیا ہے۔
- حدیث پڑھتے وقت سند اور متن دونوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔
