صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۷ - سفر میں روزہ اور افطار پر عیب نہیں
رمضان کے سفر میں روزہ یا افطار دونوں پر عیب نہیں
صحیح مسلم : ۲۶۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۱۷
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ، فَمَا يُعَابُ عَلَى الصَّائِمِ صَوْمُهُ ، وَلَا عَلَى الْمُفْطِرِ إِفْطَارُهُ " .
ابو سعید خدری روایت:
ہم سفر کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان المبارک میں تو نہ روزہ دار کے روزے پر کوئی عیب لگاتا نہ «مفطر» کے افطار پر۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۱۷ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر مگر نہایت واضح ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ رمضان میں سفر کرتے تھے۔ اس سفر میں کچھ لوگ روزہ رکھتے تھے اور کچھ افطار کرتے تھے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ نہ روزہ دار کے روزے پر عیب لگایا جاتا تھا، اور نہ افطار کرنے والے کے افطار پر۔ اس حدیث کا اصل موضوع سفر میں رمضان کا روزہ اور ایک دوسرے کے عمل کا احترام ہے۔ یہ روایت عام لوگوں کے لیے بہت مفید ہے، کیونکہ سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں سوال بار بار آتا ہے۔ یہاں متن ہمیں کم الفاظ میں بتاتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کو برا نہیں کہتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ رمضان کے سفر میں دونوں عمل موجود تھے۔
- روزہ رکھنے والے پر عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔
- افطار کرنے والے پر بھی عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔
- سفر کے مسئلے میں دوسروں کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
