صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۰ - رمضان کے سفر میں روزہ اور افطار

رمضان کے سفر میں روزہ دار اور مفطر کا احترام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۲۰

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَوْمِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ : " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ " .

حمید روایت:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا روزہ رمضان کا سفر میں تو کہا انہوں نے کہ سفر کیا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں تو نہ برا کہا «صائم» نے «مفطر» کو نہ «مفطر» نے «صائم» کو۔

صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۰ کا خلاصہ

یہ حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھے گئے سوال کا جواب ہے۔ حمید کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ سے رمضان کے سفر میں روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ رمضان میں سفر کرتے تھے۔ اس سفر میں نہ روزہ دار افطار کرنے والے کو برا کہتا تھا، اور نہ افطار کرنے والا روزہ دار کو برا کہتا تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع سفر میں رمضان کا روزہ ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑا اخلاقی سبق بھی ہے: باہمی احترام۔ متن میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ صحابہ کے عمل کا سادہ بیان ہے۔ جو روزہ رکھتا تھا وہ اپنے عمل پر رہتا، اور جو افطار کرتا تھا وہ اپنے عمل پر، مگر دونوں میں طعنہ نہیں تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انس رضی اللہ عنہ نے سفر میں رمضان کے روزے کا عملی جواب دیا۔
  • صحابہ روزہ دار اور افطار کرنے والے دونوں کو برا نہیں کہتے تھے۔
  • سفر کے مسئلے میں باہمی احترام کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
  • مختصر حدیث بھی واضح عملی رہنمائی دے سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں