صحیح بخاری حدیث ۲۳۶۳ - جانوروں پر رحم اور پانی پلانے کی فضیلت
کتے کو پانی پلانے کی حدیث: ہر جاندار پر رحم کا اجر
صحیح بخاری : ۲۳۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۶۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَا رَجُلٌ يَمْشِي فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ ، فَنَزَلَ بِئْرًا فَشَرِبَ مِنْهَا ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَإِذَا هُوَ بِكَلْبٍ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ ، فَقَالَ : لَقَدْ بَلَغَ هَذَا مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ بِي ، فَمَلَأَ خُفَّهُ ، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ ، ثُمَّ رَقِيَ ، فَسَقَى الْكَلْبَ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَغَفَرَ لَهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا ، قَالَ : فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ " . تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک شخص جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی، اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا۔ پھر باہر آیا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔اس نے (اپنے دل میں) کہا، یہ بھی اس وقت ایسی ہی پیاس میں مبتلا ہے جیسے ابھی مجھے لگی ہوئی تھی۔ (چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور) اپنے چمڑے کے موزے کو (پانی سے) بھر کر اسے اپنے منہ سے پکڑے ہوئے اوپر آیا، اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام کو قبول کیا اور اس کی مغفرت فرمائی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہمیں چوپاؤں پر بھی اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر جاندار میں ثواب ہے۔اس روایت کی متابعت حماد بن سلمہ اور ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع جانوروں پر رحم ہے۔ ایک شخص کو سفر میں سخت پیاس لگی، وہ کنویں میں اترا اور پانی پیا۔ باہر آیا تو ایک کتا دیکھا جو پیاس سے ہانپ رہا تھا اور کیچڑ چاٹ رہا تھا۔ اس آدمی نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ بھی ویسی ہی پیاس میں ہے جیسی مجھے لگی تھی۔ پھر وہ دوبارہ کنویں میں اترا، اپنے موزے میں پانی بھرا، اسے منہ سے پکڑ کر اوپر آیا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو قبول فرمایا اور اس کی مغفرت فرمائی۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا جانوروں کے ساتھ بھلائی میں بھی اجر ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہر جاندار میں اجر ہے۔ اس لیے کتے کو پانی پلانے کی حدیث، جانوروں پر رحم، پانی پلانے کی فضیلت اور ہر جاندار میں ثواب اس روایت کے اصل الفاظ سے نکلنے والے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیاسے جانور کو پانی پلانا نیکی کا کام ہے۔
- ہر جاندار کے ساتھ رحم کا معاملہ کرنا اجر کا سبب بن سکتا ہے۔
- چھوٹا سا عمل بھی اللہ کے ہاں قبول ہو سکتا ہے۔
- اپنی تکلیف یاد کر کے دوسرے کی تکلیف سمجھنا اچھا اخلاق ہے۔
