صحیح بخاری حدیث ۵۹۹۷ - بچوں پر رحم کرنے کی حدیث
بچوں پر رحم کی حدیث: پیار کرنا کمزوری نہیں
صحیح بخاری : ۵۹۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۹۷
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسًا ، فَقَالَ الْأَقْرَعُ : إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : " مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اقرع رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میرے دس لڑکے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ جو اللہ کی مخلوق پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع بچوں پر رحم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا۔ پاس بیٹھے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے دس بچے ہیں، میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ یہ حدیث بہت عام فہم انداز میں بتاتی ہے کہ بچوں سے محبت ظاہر کرنا، انہیں بوسہ دینا اور ان کے ساتھ نرمی کرنا دین کے اخلاق سے ہے۔ سختی کو مردانگی یا بڑائی سمجھنا درست نہیں۔ بچے محبت، رحم اور شفقت کے حق دار ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں سے محبت ظاہر کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔
- رحم نہ کرنے والے کے بارے میں حدیث میں سخت بات آئی ہے۔
- بچوں کو بوسہ دینا اور پیار کرنا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
