صحیح بخاری حدیث ۵۹۹۶ - نماز میں بچے کے ساتھ نرمی
نماز اور بچوں سے شفقت: امامہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ
صحیح بخاری : ۵۹۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۹۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ فَصَلَّى ، فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَفَعَهَا " .
ابوقتادہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور امامہ بنت ابی العاص (جو بچی تھیں) وہ آپ کے شانہ مبارک پر تھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو پھر اٹھا لیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کے دوران بچوں سے شفقت کا ایک عملی واقعہ بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو امامہ بنت ابی العاص، جو بچی تھیں، آپ کے کندھے پر تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں نماز پڑھی۔ جب رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے، اور جب کھڑے ہوتے تو دوبارہ اٹھا لیتے۔ حدیث کے متن سے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی، بچوں سے محبت اور عبادت میں وقار کے ساتھ آسانی کا انداز معلوم ہوتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ بچہ بوجھ نہیں سمجھا گیا، بلکہ اس کے ساتھ محبت اور احتیاط رکھی گئی۔ اس میں والدین اور بڑوں کے لیے بہت آسان مگر گہرا سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں کے ساتھ شفقت عبادت کے ماحول میں بھی باقی رہ سکتی ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بچی کے ساتھ نرمی اور احتیاط فرمائی۔
- نماز میں رکوع کے وقت بچی کو اتارنا عمل کی ترتیب کا خیال بتاتا ہے۔
