صحیح بخاری حدیث ۵۹۹۵ - بیٹیوں کی پرورش کی فضیلت
بیٹیوں کی پرورش کی حدیث: محبت، قربانی اور اچھا سلوک
صحیح بخاری : ۵۹۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۹۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَأَعْطَيْتُهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا ، ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : " مَنْ يَلِي مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ شَيْئًا فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ " .
عائشہ روایت:
میرے یہاں ایک عورت (اور) اس کے ساتھ دو بچیاں تھیں، وہ مانگنے آئی تھی۔ میرے پاس سے سوا ایک کھجور کے اسے اور کچھ نہ ملا۔ میں نے اسے وہ کھجور دے دی اور اس نے وہ کھجور اپنی دونوں لڑکیوں کو تقسیم کر دی۔ پھر اٹھ کر چلی گئی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بھی اس طرح کی لڑکیوں کی پرورش کرے گا اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا تو یہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بیٹیوں کی پرورش اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک عورت دو بچیوں کے ساتھ آئی۔ گھر میں صرف ایک کھجور تھی، انہوں نے وہی دے دی۔ اس عورت نے کھجور اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کر دی اور خود نہ کھائی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ بتایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جو شخص ایسی لڑکیوں کی پرورش کرے اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرے، وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔ حدیث میں بیٹیوں کی قدر، ماں کی قربانی اور بچیوں کے ساتھ احسان کا صاف پیغام ہے۔ اس میں تربیت، شفقت اور اچھے برتاؤ کو خاص مقام دیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیٹیوں کی پرورش دین میں قدر والی ذمہ داری ہے۔
- بچوں کے لیے ماں کی قربانی قابل قدر عمل ہے۔
- بیٹیوں سے اچھا برتاؤ جہنم سے بچاؤ کا سبب بتایا گیا ہے۔
