صحیح بخاری حدیث ۶۰۰۶ - بیوہ اور مسکین کی مدد کا اجر
بیوہ اور مسکین کی مدد: ایک عظیم نیکی
صحیح بخاری : ۶۰۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۰۶
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ كَالَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ " .
صفوان بن سلیم روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیواؤں اور مسکینوں کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح ہے جو دن میں روزے رکھتا ہے اور رات کو عبادت کرتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۰۶ کا خلاصہ
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ بیوہ اور مسکین کی مدد صرف ایک سماجی کام نہیں بلکہ دین میں بہت قیمتی عمل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بیواؤں اور مسکینوں کے لیے کوشش کرتا ہے، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یا اس شخص کی طرح ہے جو دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات کو عبادت میں کھڑا رہتا ہے۔ یہاں اصل بات کوشش ہے؛ یعنی ضرورت مند کے لیے بھاگ دوڑ کرنا، اس کی حاجت پوری کرنے کی فکر کرنا، اور کمزور لوگوں کو اکیلا نہ چھوڑنا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بیوہ کی مدد، مسکین کی مدد، اور کمزور افراد کا سہارا بننا اللہ کے ہاں بہت پسندیدہ عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیوہ اور مسکین کی مدد دین میں بہت بلند عمل ہے۔
- ضرورت مند کے لیے کوشش کرنا بھی نیکی میں شامل ہے۔
- کمزور لوگوں کی خبرگیری ایمان دار معاشرے کی نشانی ہے۔
- عبادت صرف ذاتی عمل تک محدود نہیں؛ دوسروں کی خدمت بھی بڑی نیکی ہے۔
