صحیح بخاری حدیث ۶۰۰۵ - یتیم کی کفالت کی فضیلت

یتیم کی کفالت کی حدیث: جنت میں قرب کی بشارت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۰۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا " وَقَالَ : بِإِصْبَعَيْهِ السَّبابةِ وَالْوُسْطَى .

سہل بن سعد روایت:

میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت اور درمیانی انگلیوں کے اشارہ سے (قرب کو) بتایا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۰۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع یتیم کی کفالت ہے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے قرب کو سمجھایا۔ حدیث میں یتیم کی دیکھ بھال کو بہت بڑے مقام کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کفالت کا مطلب صرف کھانا دینا نہیں، بلکہ یتیم کے حال کا خیال، پرورش، نگرانی اور ضرورت کے مطابق مدد بھی اس مفہوم میں آتی ہے۔ متن میں اصل پیغام یہی ہے کہ کمزور اور بے سہارا بچے کی ذمہ داری اٹھانا جنت کے قریب کرنے والا عمل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یتیم کی کفالت بہت فضیلت والا عمل ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے یتیم کی کفالت کرنے والے کے لیے جنت میں قرب کا اشارہ فرمایا۔
  • کمزور بچے کی پرورش اور دیکھ بھال مسلمان کی بڑی ذمہ داری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں