صحیح بخاری حدیث ۵۹۹۸ - دل میں رحم کی قدر
دل میں رحم کی حدیث: بچوں سے پیار ایمان والے اخلاق کا حصہ
صحیح بخاری : ۵۹۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۹۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : تُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ ، فَمَا نُقَبِّلُهُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَأَمْلِكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللَّهُ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ " .
عائشہ روایت:
ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں، ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع بچوں سے رحم اور دل کی نرمی ہے۔ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں، ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ حدیث کا پیغام صاف ہے کہ بچوں کے ساتھ محبت اور نرمی دل کے رحم سے جڑی ہے۔ بچے گھر کی چھوٹی مخلوق ہیں، ان کے ساتھ سختی اور بے رخی دل کی خشکی کو ظاہر کر سکتی ہے۔ اس روایت میں بوسہ دینے کو صرف رسم نہیں، بلکہ رحم کی علامت کے طور پر سمجھایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں سے پیار کرنا دل کے رحم کی نشانی ہے۔
- بچوں سے بے رخی کو حدیث میں پسندیدہ انداز نہیں کہا گیا۔
- رحم اللہ کی نعمت ہے، اسے دل میں باقی رکھنا چاہیے۔
