صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۳ - حیاء نہ ہو تو جو چاہے کر

حیاء کی حدیث: جب شرم نہ رہے تو عمل بگڑ جاتا ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۸۳

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ " .

ابومسعود عقبہ بن عمرو روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں نے اگلے پیغمبروں کے کلام جو پائے ان میں یہ بھی ہے کہ جب تجھ میں حیاء نہ ہو تو پھر جو جی چاہے کر۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع حیاء ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ پچھلے پیغمبروں کی باتوں میں سے ایک بات لوگوں تک پہنچی: جب تجھ میں حیاء نہ ہو تو جو جی چاہے کر۔ یہاں حیاء کی حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ شرم و حیا انسان کے اندر ایک روک پیدا کرتی ہے۔ جب دل میں یہ احساس باقی رہتا ہے کہ غلط بات مناسب نہیں، تو انسان بہت سے برے کاموں سے بچتا ہے۔ اور جب حیاء ختم ہو جائے تو آدمی بے پروا ہو کر اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ اس لیے حیا اسلام میں صرف ظاہری جھجک نہیں، بلکہ اپنے عمل کو سنبھالنے کا ایک مضبوط اخلاقی معیار ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حیاء انسان کو غلط کام سے رکنے کا احساس دلاتی ہے۔
  • بے حیائی آدمی کو اپنی خواہش کے پیچھے بے لگام کر سکتی ہے۔
  • یہ نصیحت پچھلے پیغمبروں کی تعلیمات میں بھی موجود رہی ہے۔
  • عمل سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا یہ کام شرم اور اخلاق کے مطابق ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں