صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۴ - حیاء اور کردار کی حفاظت
حیاء کی حدیث: حیا ختم ہو تو انسان بے فکر ہو جاتا ہے
صحیح بخاری : ۳۴۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۸۴
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ " .
ابومسعود انصاری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگلے پیغمبروں کے کلام میں سے لوگوں نے جو پایا یہ بھی ہے کہ جب تجھ میں حیاء نہ ہو پھر جو جی چاہے کر۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۴ کا خلاصہ
یہ روایت بھی حیاء کے بارے میں ہے، اور اس میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ وہی بات آئی ہے کہ جب تجھ میں حیاء نہ ہو تو جو چاہے کر۔ حیا کی حدیث کا پیغام بہت سیدھا ہے: انسان کے اندر شرم کا احساس باقی رہے تو وہ اپنے قول و فعل پر نظر رکھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کیا یہ بات اچھی ہے، کیا یہ کام مناسب ہے، اور کیا اس سے میرا کردار خراب تو نہیں ہو گا۔ جب حیاء کمزور ہو جائے تو آدمی لوگوں کے سامنے بھی غلط کام کرتے ہوئے زیادہ نہیں گھبراتا۔ اس حدیث میں ہمیں اپنے دل کی اس کیفیت کو بچانے کی یاد دہانی ہے جو گناہ اور بد اخلاقی کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیاء اچھے کردار کی حفاظت میں مدد دیتی ہے۔
- غلط کام سے پہلے دل کا شرمانا ایک نعمت ہے۔
- بے حیائی انسان کو لاپروا بنا سکتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو پچھلی نبوتوں کی نصیحت قرار دیا۔
