صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۵ - تکبر اور لباس گھسیٹنے کی وعید
تکبر کی حدیث: غرور کے ساتھ لباس گھسیٹنا
صحیح بخاری : ۳۴۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۸۵
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ خُسِفَ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین سے گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا اور اب وہ قیامت تک یوں ہی زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔“ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن خالد نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع تکبر ہے۔ روایت میں ایک شخص کا ذکر ہے جو غرور کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پر گھسیٹتا ہوا چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، اور وہ قیامت تک اسی طرح دھنستا رہے گا۔ اس حدیث میں اصل بات لباس کی لمبائی کے ساتھ تکبر کا تعلق ہے، کیونکہ روایت میں صاف الفاظ ہیں کہ وہ شخص خیلاء، یعنی غرور کی وجہ سے ایسا کر رہا تھا۔ تکبر کی حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کا چلنا، پہننا اور لوگوں کے سامنے انداز بھی دل کی کیفیت ظاہر کر سکتا ہے۔ اللہ کے بندے کو عاجزی، سادگی اور اپنے رب کے سامنے جھکنے والا مزاج رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تکبر انسان کے لیے بہت خطرناک اخلاقی بیماری ہے۔
- لباس اور چال میں غرور دکھانا برا انجام لا سکتا ہے۔
- حدیث میں وعید اس شخص کے لیے آئی جو غرور سے اپنا تہبند گھسیٹ رہا تھا۔
- مومن کو اپنے ظاہر کے ساتھ دل کی حالت بھی درست رکھنی چاہیے۔
