صحیح بخاری حدیث ۵۷۹۱ - کپڑا غرور سے گھسیٹنے کی ممانعت
کپڑا غرور سے گھسیٹنے کی حدیث: تکبر سے بچنے کا سبق
صحیح بخاری : ۵۷۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۹۱
حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا شَبابةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : لَقِيتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ عَلَى فَرَسٍ ، وَهُوَ يَأْتِي مَكَانَهُ الَّذِي يَقْضِي فِيهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَنِي ، فَقَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مَخِيلَةً لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَقُلْتُ لِمُحَارِبٍ : أَذَكَرَ إِزَارَهُ ؟ ، قَالَ : مَا خَصَّ إِزَارًا وَلَا قَمِيصًا ، تَابَعَهُ جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، وَزَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ ، وَتَابَعَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَقُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ .
شعبہ روایت:
میں نے محارب بن دثار قاضی سے ملاقات کی، وہ گھوڑے پر سوار تھے اور مکان عدالت میں آ رہے تھے جس میں وہ فیصلہ کیا کرتے تھے۔ میں نے ان سے یہی حدیث پوچھی تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آپ اپنا کپڑا غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہوا چلے گا، قیامت کے دن اس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر نہیں کرے گا۔“شعبہ نے کہا کہ) میں نے محارب سے پوچھا کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تہمد کا ذکر کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ تہمد یا قمیص کسی کی انہوں نے تخصیص نہیں کی تھی۔ محارب کے ساتھ اس حدیث کو جبلہ بن سحیم اور زید بن اسلم اور زید بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور لیث نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی ہی روایت کی اور نافع کے ساتھ اس کو موسیٰ بن عقبہ اور عمر بن محمد اور قدامہ بن موسیٰ نے بھی سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اس میں یوں ہے کہ جو شخص اپنا کپڑا (ازراہ تکبر) لٹکائے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۷۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع تکبر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنا کپڑا غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہوا چلے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر نہیں کرے گا۔ اس روایت کی خاص بات یہ ہے کہ محارب بن دثار سے پوچھا گیا کہ کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خاص طور پر تہمد کا ذکر کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے تہمد یا قمیص کسی ایک کی تخصیص نہیں کی تھی۔ یعنی بیان میں کپڑے کا لفظ عام آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل خرابی غرور والا انداز ہے۔ لباس کا ادب صرف ایک کپڑے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ آدمی کے پورے طرزِ عمل سے جڑا ہوتا ہے۔ کپڑا غرور سے گھسیٹنے کی حدیث ہمیں سادگی اور عاجزی کی طرف بلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں کپڑے کو غرور سے گھسیٹنے پر سخت وعید آئی ہے۔
- روایت میں تہمد یا قمیص کی خاص تخصیص نہیں کی گئی۔
- اصل تنبیہ غرور اور اکڑ والے انداز پر ہے۔
