صحیح بخاری حدیث ۵۷۹۰ - غرور والی روایت کی تائید
تکبر اور خود پسندی کی حدیث: ایک ہی مضمون کی تائید
صحیح بخاری : ۵۷۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۹۰
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ عَمِّهِ جَرِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَلَى باب دَارِهِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
جریر بن زید روایت:
میں سالم بن عبداللہ بن عمر کے ساتھ ان کے گھر کے دروازے پر تھا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۷۹۰ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر الفاظ میں آئی ہے اور پچھلی روایت جیسے مضمون کی تائید کرتی ہے۔ سالم بن عبداللہ بن عمر نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ اس لیے اس کا مرکزی موضوع بھی تکبر، خود پسندی اور غرور والا چلنا ہے۔ جب ایک روایت دوسرے طریق سے اسی مضمون کو بیان کرے تو قاری کو سمجھ آتا ہے کہ بات معمولی نہیں۔ لباس یا ظاہری شان کو اپنی بڑائی کا ذریعہ بنانا حدیث کے پیغام کے خلاف ہے۔ اس روایت میں تفصیل کم ہے، مگر اشارہ صاف ہے کہ جو مضمون پہلے بیان ہوا، وہی یہاں بھی نقل کیا گیا۔ مسلمان کے لیے بہتر راستہ عاجزی، سادگی اور اپنی حقیقت کو یاد رکھنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مختصر روایت بھی پچھلے مضمون کی تائید کر سکتی ہے۔
- تکبر اور خود پسندی کا معاملہ معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
- لباس یا ظاہری شان کو غرور کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
