صحیح بخاری حدیث ۵۷۸۹ - اکڑ کر چلنے والے شخص کا انجام
تکبر سے چلنے کی حدیث: لباس اور خود پسندی کا انجام
صحیح بخاری : ۵۷۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۸۹
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ مُرَجِّلٌ جُمَّتَهُ إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی یا (یہ بیان کیا کہ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(بنی اسرائیل میں) ایک شخص ایک جوڑا پہن کر کبر و غرور میں سر مست، سر کے بالوں میں کنگھی کئے ہوئے اکڑ کر اتراتا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک اس میں تڑپتا رہے گا یا دھنستا رہے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۷۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تکبر اور خود پسندی ہے۔ روایت میں ایک شخص کا ذکر ہے جو ایک جوڑا پہن کر، اپنے بال سنوار کر، اپنے آپ پر خوش ہو کر اکڑتا ہوا چل رہا تھا۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا، اور حدیث کے الفاظ کے مطابق وہ قیامت تک اسی میں تڑپتا یا دھنستا رہے گا۔ یہاں لباس، بالوں کی صفائی یا اچھا جوڑا اصل مسئلہ نہیں بتایا گیا؛ مسئلہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور اکڑ کر چلے۔ تکبر سے چلنے کی حدیث ہمیں اپنے چلنے، لباس اور دل کی حالت پر غور کراتی ہے۔ انسان کو عزت ملے، خوبصورت لباس ملے یا اچھا ظاہر ہو، پھر بھی عاجزی لازم ہے۔ خود پسندی آدمی کو بہت خطرناک راستے پر لے جا سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خود پسندی اور اکڑ کر چلنا اس روایت میں سخت انجام کا سبب بنا۔
- لباس اور سنورنا اگر غرور کے ساتھ ہو تو آدمی کے لیے نقصان دہ بن سکتا ہے۔
- انسان کو اپنی ظاہری حالت پر خوش ہو کر دوسروں سے بڑا نہیں بننا چاہیے۔
