صحیح بخاری حدیث ۵۷۸۸ - غرور سے تہمد گھسیٹنے کی وعید

غرور سے کپڑا لٹکانا: تکبر کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۸۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنا تہمد غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف دیکھے گا نہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۵۷۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع تکبر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا تہمد غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ اس میں اصل بات صرف کپڑے کی لمبائی نہیں، بلکہ غرور کی کیفیت بھی صاف لفظوں میں بیان ہوئی ہے۔ آدمی جب لباس کو اپنی بڑائی، دکھاوے یا اکڑ کے لیے استعمال کرے تو یہ دل کی خرابی بن جاتی ہے۔ غرور سے کپڑا لٹکانا اس حدیث میں بہت سخت انداز سے منع کیا گیا ہے۔ اس لیے لباس میں پاکیزگی کے ساتھ عاجزی بھی ہونی چاہیے۔ اچھا لباس پہننا الگ بات ہے، مگر اسے تکبر کا ذریعہ بنانا خطرناک بات ہے۔ حدیث ہمیں اپنے کپڑوں کے ساتھ اپنے دل کو بھی دیکھنے کی یاد دلاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غرور کی وجہ سے کپڑا گھسیٹنا حدیث میں سخت ناپسندیدہ بتایا گیا ہے۔
  • لباس آدمی کے دل کی حالت کو بھی ظاہر کر سکتا ہے۔
  • اچھا لباس ہو تو بھی تکبر اور اکڑ سے بچنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں