صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۶ - خوفِ الٰہی اور مغفرت

خوفِ الٰہی کی حدیث: اللہ کی قدرت اور مغفرت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۰۶

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ : " رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَإِذَا مَاتَ ، فَحَرِّقُوهُ وَاذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَحْرَ ، فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ الْبَرَّ ، فَجَمَعَ مَا فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : لِمَ فَعَلْتَ ؟ ، قَالَ : مِنْ خَشْيَتِكَ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ لَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص نے جس نے (بنی اسرائیل میں سے) کوئی نیک کام کبھی نہیں کیا تھا، وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا ڈالیں اور اس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی دریا میں بکھیر دیں کیونکہ اللہ کی قسم اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو ایسا عذاب مجھ کو دے گا جو دنیا کے کسی شخص کو بھی وہ نہیں دے گا۔پھر اللہ نے سمندر کو حکم دیا اور اس نے تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اس نے خشکی کو حکم دیا اور اس نے بھی اپنی تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے عرض کیا اے رب! تیرے خوف سے میں نے ایسا کیا اور تو سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع خوفِ الٰہی ہے۔ ایک شخص نے کوئی نیک کام نہیں کیا تھا، مگر اس کے دل میں اللہ کے عذاب کا شدید ڈر تھا۔ اسی ڈر کی وجہ سے اس نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد اسے جلا دیا جائے اور اس کی راکھ آدھی خشکی میں اور آدھی سمندر میں بکھیر دی جائے۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس طرح شاید وہ گرفت سے بچ جائے گا، مگر اللہ کی قدرت سے خشکی اور سمندر نے اس کی راکھ جمع کر دی۔ جب اللہ نے پوچھا کہ یہ کام کیوں کیا، تو اس نے کہا: اے رب! تیرے خوف سے۔ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے، اس کی قدرت کامل ہے، اور خوفِ خدا بندے کے معاملے میں بڑی اہم بات ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں، چاہے راکھ خشکی اور سمندر میں بکھر جائے۔
  • بندے کے دل کا خوفِ الٰہی اللہ کے ہاں اہم ہے۔
  • اللہ تعالیٰ بندے کے حال اور نیت کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں