صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۵ - اللہ سے حسن ظن

اللہ سے حسن ظن کی حدیث: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۰۵

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع حسن ظن باللہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان کیا: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے۔ حدیث بہت مختصر ہے، مگر بندے کے دل کو سیدھا کرتی ہے۔ اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا، اس کی رحمت کی امید رکھنا، اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کو امید کے ساتھ قائم رکھنا اس متن سے سمجھ آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ گناہ پر اصرار کرے اور صرف گمان پر بھروسا کر لے؛ متن میں عمل کی تفصیل نہیں آئی، اس لیے ہم اتنا ہی کہیں گے کہ اللہ کے بارے میں بدگمانی کے بجائے بندے کو اپنے رب سے اچھی امید رکھنی چاہیے۔ یہ امید دعا، توبہ اور رجوع کے ساتھ زیادہ معنی رکھتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔
  • بندے کا دل اپنے رب کے ساتھ امید سے جڑا رہے۔
  • حدیث میں اللہ کا بندے کے گمان کے ساتھ معاملہ کرنے کا ذکر ہے۔
  • حسن ظن کو دعا، توبہ اور رجوع کے ساتھ رکھنا بہتر ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں