صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۴ - اللہ سے ملاقات کی محبت
اللہ سے ملاقات کی محبت: بندے کے شوق والی حدیث
صحیح بخاری : ۷۵۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۰۴
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ : " إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ ، وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملاقات پسند کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ملاقات ناپسند کرتا ہے تو میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اللہ سے ملاقات کا شوق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان کیا کہ جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملاقات پسند کرتا ہوں، اور جب وہ مجھ سے ملاقات ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملاقات ناپسند کرتا ہوں۔ حدیث مختصر ہے، اس لیے اس پر غیر ضروری تفصیل ڈالنے کے بجائے متن ہی کو سمجھنا چاہیے۔ بندے کے دل کی کیفیت، اللہ کی طرف رغبت، اور آخرت کے انجام سے تعلق اس میں نمایاں ہے۔ یہ حدیث موت کی خواہش کرنے کا حکم نہیں دیتی، بلکہ اللہ سے ملاقات کے بارے میں بندے کے پسند یا ناپسند کے حال کو بیان کرتی ہے۔ اس لیے اسے امید، ایمان اور اللہ کے ساتھ تعلق کے پہلو سے پڑھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ سے ملاقات کو پسند کرنے کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- بندے کی اندرونی رغبت اللہ کے ساتھ تعلق سے جڑی ہے۔
- حدیث میں پسند اور ناپسند دونوں حالتیں بیان ہوئیں۔
- اس متن سے موت مانگنے کا حکم نہیں نکلتا، بلکہ ملاقات کی کیفیت بیان ہوتی ہے۔
