صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۳ - بارش اور ایمان
بارش اور ایمان کی حدیث: نعمت کو اللہ کی طرف منسوب کرنا
صحیح بخاری : ۷۵۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۰۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : مُطِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَالَ اللَّهُ : " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِي " .
زید بن خالد روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بعض بندے صبح، کافر ہو کر کرتے ہیں اور بعض بندے صبح، مومن ہو کر کرتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ایمان اور نعمت کی نسبت ہے۔ زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بعض بندے صبح کافر ہو کر کرتے ہیں اور بعض بندے مومن ہو کر کرتے ہیں۔ اس روایت کے دیے گئے متن میں اتنا حصہ موجود ہے کہ بارش کے بعد بندوں کے دو حال بیان ہوئے: کچھ کا حال ایمان والا، کچھ کا حال کفر والا۔ اس سے اصل بات یہ نکلتی ہے کہ بارش جیسی نعمت کو اللہ کی عطا سمجھنا چاہیے۔ متن میں جو تفصیل یہاں نہیں دی گئی، اسے شامل کیے بغیر یہی کہنا درست ہے کہ نعمت ملنے پر بندے کی زبان اور عقیدہ دونوں درست رہنے چاہئیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بارش اللہ کی نعمت ہے، اسے اللہ ہی کی طرف منسوب کرنا چاہیے۔
- نعمت کے بعد بندے کا رد عمل ایمان یا کفر کے پہلو سے اہم ہو سکتا ہے۔
- حدیث میں بارش کے بعد بندوں کے دو حال بیان ہوئے ہیں۔
- نعمت ملنے پر زبان کو عقیدے کے مطابق رکھنا چاہیے۔
