صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۲ - صلہ رحمی کی فضیلت
صلہ رحمی کی حدیث: رشتہ جوڑنے والے سے اللہ کا تعلق
صحیح بخاری : ۷۵۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۰۲
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَامَتِ الرَّحِمُ ، فَقَالَ : مَهْ ، قَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ ، فَقَالَ : أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ ، قَالَتْ : بَلَى يَا رَبِّ ، قَالَ : فَذَلِكِ لَكِ ، ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ سورة محمد آية 22 .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ٹھہر جا۔ اس نے کہا کہ یہ قطع رحم (ناطہٰ توڑنا) سے تیری پناہ مانگنے کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں ناطہٰ کو جوڑنے والے سے اپنے رحم کا ناطہٰ جوڑوں اور ناطہٰ کو کاٹنے والوں سے جدا ہو جاؤں۔ اس نے کہا کہ ضرور، میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہی تیرا مقام ہے۔پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (سورۃ محمد کی) یہ آیت پڑھی «فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم» ”ممکن ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ تو زمین میں فساد کرو اور قطع رحم کرو۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع صلہ رحمی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر رحم یعنی رشتہ کھڑا ہوا اور اللہ کی پناہ مانگی کہ اسے کاٹا نہ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں اسے جوڑوں جو تمہیں جوڑے، اور اسے کاٹ دوں جو تمہیں کاٹے؟ رحم نے کہا: کیوں نہیں، اے رب! پھر اللہ نے فرمایا کہ یہی تیرا مقام ہے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سورۃ محمد کی آیت پڑھی جس میں زمین میں فساد اور رشتے کاٹنے کا ذکر ہے۔ اس حدیث میں رشتوں کی قدر بہت صاف بیان ہوئی ہے۔ خاندان، قرابت اور رشتے صرف سماجی معاملہ نہیں، اللہ کے ہاں بھی اس کا بڑا مقام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رشتے جوڑنا اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔
- قطع رحمی یعنی رشتہ کاٹنا سنگین معاملہ ہے۔
- حدیث میں صلہ رحمی کو اللہ کے تعلق سے جوڑا گیا ہے۔
- قرابت داروں کے حقوق کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
