صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۷ - قطع رحمی سے بچنے کی سخت تنبیہ
قطع رحمی کی حدیث: رشتے توڑنے سے بچنے کی نصیحت
صحیح بخاری : ۵۹۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۸۷
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمِّي سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ قَالَتْ : الرَّحِمُ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ ، قَالَتْ : بَلَى يَا رَبِّ ، قَالَ فَهُوَ لَكِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ سورة محمد آية 22 " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی اور جب اس سے فراغت ہوئی تو رحم نے عرض کیا کہ یہ اس شخص کی جگہ ہے جو قطع رحمی سے تیری پناہ مانگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں اس سے جوڑوں گا جو تم سے اپنے آپ کو جوڑے اور اس سے توڑ لوں گا جو تم سے اپنے آپ کو توڑ لے؟ رحم نے کہا کیوں نہیں، اے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پس یہ تجھ کو دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم» یعنی ”کچھ عجیب نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم ملک میں فساد برپا کرو اور رشتے ناطے توڑ ڈالو۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع قطع رحمی اور صلہ رحمی ہے۔ حدیث میں بتایا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی تو رحم نے قطع رحمی سے اللہ کی پناہ مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے رحم کو یہ مقام دیا کہ جو اسے جوڑے گا، اللہ اسے جوڑے گا، اور جو اسے توڑے گا، اللہ اس سے قطع تعلق فرمائے گا۔ اس بیان سے رشتہ داری کے حقوق کی بڑی اہمیت سامنے آتی ہے، مگر بات بہت سادہ ہے: خاندان کے رشتے معمولی نہیں۔ انہیں توڑنا دلوں، گھروں اور معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ حدیث کے آخر میں آیت کا ذکر بھی اسی بات کو مضبوط کرتا ہے کہ زمین میں فساد اور رشتے کاٹنا بری روش ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قطع رحمی سے بچنا ضروری ہے کیونکہ حدیث میں اس پر سخت تنبیہ آئی ہے۔
- رشتہ داری جوڑنا اللہ کی رضا کے قریب کرنے والا عمل ہے۔
- رشتوں کو توڑنا خاندان اور معاشرے میں خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔
