صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۴ - قطع رحمی کی سخت وعید

قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا: صلہ رحمی کی اہمیت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۸۴

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : إِنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ " .

جبیر بن مطعم روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۴ کا خلاصہ

یہ حدیث صلہ رحمی کے مقابلے میں قطع رحمی کی سختی بیان کرتی ہے۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے سنا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں مگر پیغام بہت گہرا ہے۔ رشتہ داری توڑنا، تعلقات کاٹ دینا، اور اہل قرابت کے حقوق کو نظر انداز کرنا معمولی بات نہیں۔ صلہ رحمی اسلام میں صرف ملنے جلنے کا نام نہیں، بلکہ رشتوں کو جوڑنے، حق ادا کرنے اور ناراضی کے باوجود بہتر رویہ رکھنے کا نام ہے۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے احتیاط یہ ہے کہ ہم اپنے خاندان، والدین، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ اپنے رویے کا جائزہ لیں۔ حدیث ایک سخت تنبیہ ہے کہ رشتہ توڑنے کو ہلکا نہ سمجھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قطع رحمی بہت سنگین عمل ہے۔
  • رشتوں کو جوڑنا دینی ذمہ داری ہے۔
  • خاندانی ناراضی کو مستقل قطع تعلقی میں بدلنے سے بچنا چاہیے۔
  • مختصر حدیث بھی بڑے اخلاقی اصول سکھا سکتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں