صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۵ - رزق اور عمر میں برکت
صلہ رحمی سے رزق میں فراخی اور عمر میں برکت کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۹۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۸۵
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَأَنْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے پسند ہے کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمردراز کی جائے تو وہ صلہ رحمی کیا کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث صلہ رحمی کی فضیلت کے بارے میں بہت معروف ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کی جائے تو وہ صلہ رحمی کیا کرے۔ حدیث کے الفاظ میں رشتہ داری جوڑنے کو رزق اور عمر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کو اپنے رشتہ داروں سے تعلق، خبرگیری، مدد، نرم کلامی اور اچھے برتاؤ کی عادت بنانی چاہیے۔ صلہ رحمی صرف تہوار یا خاص موقع تک محدود نہیں؛ یہ ایک مستقل اخلاقی رویہ ہے۔ اس حدیث میں وعدہ نبی صلى الله عليه وسلم کے الفاظ میں آیا ہے، اس لیے اسے امید، عمل اور ذمہ داری کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صلہ رحمی رزق میں فراخی کا سبب بیان کی گئی ہے۔
- رشتہ داری جوڑنے کو عمر دراز ہونے کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
- رشتہ داروں کی خبرگیری اور حسن سلوک اہم عمل ہے۔
- دینی فضیلت سن کر عملی قدم اٹھانا چاہیے۔
