صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۶ - صلہ رحمی سے رزق میں فراخی
صلہ رحمی کی حدیث: رزق میں فراخی اور عمر کی برکت
صحیح بخاری : ۵۹۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۸۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کی عمردراز ہو تو وہ صلہ رحمی کیا کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع صلہ رحمی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت صاف بات فرمائی کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز ہو، اسے اپنے رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا چاہیے۔ یہاں صلہ رحمی صرف رسمی ملاقات کا نام نہیں، بلکہ رشتہ داروں کے ساتھ تعلق باقی رکھنا، حال پوچھنا، ضرورت کے وقت ساتھ دینا اور دل میں نرمی رکھنا بھی اس میں شامل ہے۔ اس حدیث میں رزق میں برکت، عمر میں برکت، رشتہ داری کے حقوق اور رشتے ناطے جوڑنے کی ترغیب ایک ہی جگہ آتی ہے۔ عام زندگی میں جب انسان رشتوں کو سنبھالتا ہے تو گھر، خاندان اور معاشرے میں خیر بڑھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا دین میں پسندیدہ عمل ہے۔
- صلہ رحمی کو رزق کی فراخی اور عمر کی برکت سے جوڑا گیا ہے۔
- رشتے ناطے صرف نام کے لیے نہیں، عملی تعلق کے لیے ہوتے ہیں۔
