صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۷ - صلہ رحمی سے رزق میں کشادگی

صلہ رحمی کی حدیث: رزق اور عمر میں برکت کا راستہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۶۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ هُوَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ ، أَوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .

انس بن مالک روایت:

میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ جو شخص اپنی روزی میں کشادگی چاہتا ہو یا عمر کی درازی چاہتا ہو تو اسے چاہئیے کہ صلہ رحمی کرے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع صلہ رحمی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص پسند کرے کہ اس کی روزی میں کشادگی ہو یا اس کی عمر دراز ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔ یہاں صلہ رحمی سے مراد رشتہ داروں کے ساتھ تعلق جوڑنا، حال پوچھنا، مدد کرنا اور قطع تعلقی سے بچنا ہے۔ متن میں رزق کی کشادگی اور عمر کی درازی کا ذکر ہے، اس لیے اسے ایک بڑی نصیحت سمجھنا چاہیے۔ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ معاشی کامیابی صرف بازار اور محنت تک محدود نہیں، انسان کے رشتوں کا حسن بھی اس کی زندگی پر اثر رکھتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔
  • حدیث میں صلہ رحمی کو رزق کی کشادگی سے جوڑا گیا ہے۔
  • عمر کی درازی چاہنے والے کو رشتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • کاروبار اور روزی کے ساتھ اخلاقی تعلقات بھی اہم ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں